Header Ads

ایک حسینہ کی ایسی روداد جو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کردیتی ہے



’’حسینہ کی روداد‘‘
(ایک حسینہ کی ایسی روداد جو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کردیتی ہے )
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تیز ، بہت تیزتقریبا بھاگتی چلی جارہی تھی ۔ لمحہ لمحہ میرے وجود پہ بھاری گذرہا تھا ۔ اور میں گردوپیش سے بے نیاز، دکانوں سے گذرتی ، منہ کھولے بس آگے ہی آگے بڑھ رہی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں حیرت انگیز حد تک خوبصورت تھی ۔ مشہور تھا کہ میری خوبصوتی مخاطب کو سحر ذدہ کردیتی ہے ۔ ایک ایک وقت میں کئی کئی لڑکے مجھ پہ جان لٹاتے تھے ۔
مجھ میں بھی نزاکت کوٹ کوٹ کہ بھری ہوئی تھی اور میں’’ جی بھر کے جینا ‘‘مقصدِحیات سمجھتی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسان ، تم کل آرہے ہو ؟
میں نے حسان کو میسیج کیا تھا ۔
پیاری ،
تم آؤگی تومیں آؤں گا ۔
اوکے پھر میں نہیں آرہی کل ، کچھ پڑھ ہی لوں گی ، ورنہ میڈم سمیحہ نے پیپر میں اڑا دینا ہے ۔ پیپرز کا آغاز ہورہا تھا سو کلاس کی اکثریت نے چھٹی کا ارادہ کیا تھا ۔
’’اوہو ، میں تمہیں بے حد مس کروں گا مائرہ !
وہ معمول کے مطابق اظہار افسوس کرنے لگا ۔
میں مسکرائی ،
دن بھر کی تھکی ہاری تھی ، بس بیزاری سے اٹھ کر نوٹس اکھٹے کرنے لگی ۔
نوٹس دیکھتے ہی چکرآنا شروع ہوگئے ، سر بھاری ہونے لگا ، میں نے صبح چھے بجے کا الارم لگایا اور سو گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاف معمول میں آلارم کی پہلی آواز پر لبیک کہ چکی تھی ، موبائل کھولا ، گروپ چالیس میسیجز سے بھرا ہوا تھا ۔
خبر یہ تھی کہ گروپ لیڈر نے اپنا قیمتی وقت دینے کا اعلان کیا تھا ۔
آج اس نے کمپیوٹر پڑھانا تھا ۔
سو پورا گروپ تیار ، آج آنے کو بے تاب تھا ۔
میں نے بھی فورا زوردار ہامی بھری ،تائید کی ، اپنے آنے کی خبر دی ۔ جلدی سے اٹھ کر تیاری کی ۔ اچھا سا ہیر اسٹائل بنایا ، بیک اٹھایا اور چل دی لیکن ۔۔۔ سچ کہوں ، مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ سب کچھ میں آخری بار کررہی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا ڈیپارٹمنٹ خالی خالی سا نظر آیا ۔
ایمان ، امینہ ،عائشہ ماہ رخ جانے سب کہاں تھیں ،۔
میں دھڑا دھڑ میسج کرنے لگی ۔
کہاں ہووو؟
کوئی جواب ہی نہیں ۔
گنے چنے لوگ ۔
میں سخت جھنجھلا گئی ۔
کینٹین سائیڈ پہ گئی کہ شائید ’’پیٹو گروپ‘‘ وہیں ہو ۔ کہ ایک منظر دیکھ کر میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ، میں انگشت بدنداں رہ گئی اور میری زندگی بدل گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں بازو کاندھوں پہ پھیلائے بیٹھے تھے ، ان کا رخ دوسری جانب تھا اور وہ زور زور سے قہقہے لگا رہے تھے ۔
میں منٹ کے ہزارویں حصے میں بھی پہچان سکتی تھی کہ یہ حسان کا گروپ ہے ۔
’’ارشد یارا ! تیری بکری نہیں آئی آج ۔‘‘
ہاہاہا ، ارشد سمیت سب کا قہقہہ انتہائی جاندار تھا ۔
ہر وقت ’’میں میں ‘‘ کرتی رہتی ہے بے چاری ، کچھ کھلایا پلایا کرو بے چاری کو ، مرجائے گی کسی دن میں میں کرتے ۔
حارث نے ’’میں میں ‘‘ کی خوب نقل اتاری تھی ۔
ارشد پیٹ پکڑے ہنس رہاتھا ، بڑی مشکل سے بولا ۔
سب خاموش ہو جاؤ ۔ ، بکری کے ساتھ رات بڑا مزیدار لطیفہ ہوا ۔
کیا ہوا بھئی ، وہ ایک بار پھر قہقہہ لگانے کے لیے مستعد تھے ۔
کہتی ہے میں کل نہیں آرہی ۔ میں نے کہا مر جاؤں گا تمہارے بغیر ۔
کہنے لگی واقعی ۔ میں نے کہا ہاں نا ۔ کہتی ہے قسم سے میں بھی مر جاؤں گی ارشد ،میں نہیں رہ سکتی ۔
یہ دیکھو ، یہ چیٹ دیکھو یارو !
وہ انتہائی پرجوش تھا ۔
اس کا وائس میسیج چیک کرو یارو ،
سنو یارو ، اٹس ٹو ٹوٹو مچھ !
اس نے اس کی آڈیو پلے کردی ۔
مجھ پر لززہ طاری تھا ،
عینی کی آواز میں فقط رونا سنائی دیا ،وہ روتے ہوئے ایک ایسے شخص کو اپنا آپ سپرد کر رہی تھی جو اس کی حثیت کو انسان سے گرا کر بکری میں منتقل کرچکا تھا ۔ ، اوراس بکری کے جذبات کی سر عام تذلیل کررہا تھا ۔
میں غصے سے کانپ رہی تھی ۔
وائس میسج کا ختم ہونا تھا کہ سب کے قہقہے فضا میں بلند ہونے لگے ۔
یارو ، ابھی کلائی میکس ( عروج) نہیں آیا ۔
کلائی میکس میری آڈیو ہے ۔ ارشد پھر چلایا ۔
وہ کسی مرد کی انتہائی پرسوز آواز تھی جس میں وہ تقریبا بلک رہا تھا ۔
ہنستے ہنستے وہ اوندھے ہوکر ایک دوسرے پہ گرے جارہے تھے ۔
یار تو سنا ۔۔۔ تیری بھینس کیسی ہے ؟ قہقہے مدھم ہونے لگے تو ایک آواز آئی ۔
وہ بھی نہیں آئی آج؟ یہ حسان ہی کی آواز تھی جو حارث کے کاندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہ رہا تھا ۔عائشہ قدرے فربہ وجود کی حامل لیکن انتہائی خوبصورت لڑکی تھی ۔
اور کون نہیں جانتا تھا کہ عائشہ اور حارث ’’مثالی دوست‘‘ تھے ۔
یار بھینس کا نہ پوچھو ،تنگ کر کے رکھا ہوا ہے ، اچھا ہوا آج نہیں آئی ۔، ہر وقت رونا دھونا اور کچھ نہیں ۔
نہیں رہ سکتی آپ کے بنا حارث !
حارث نے خوب نقل اتاری تھی ۔
چھوڑ دے یار ، ایک اور خرید لے ، لیکن اس دفعہ بھینس نہیں کوئی گدھی لینا ۔
ارشد نے اس کی راہنمائی کی تھی ۔
میرا پورا وجود کپکپا رہا تھا ۔
ہاں تو اورکیا ، گدھی ، صحیح رھتی ہے ۔
اس کی بھینس بھی بس۔۔ اور اس کی بکری بھی بس !
حسان نے حارث اور ارشد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بے زار منہ بنایا تھا ۔
یار کیوں نہ سب اکھٹی پارٹی بدلیں ۔
میرا سانس بند ہونے لگا تھا
پارٹی بعد میں بدلنا ، اپنی گائے کا تو سنا دے ۔
ارشد نے چسکے لیتے ہوئے حسان سے میرے بارے میں پوچھا تھا ۔
مجھے اپنا چہرہ اور کان گرم ہوتے محسوس ہوئے ۔
گائے ! گائے کا کچھ نہ پوچھ یار ، خدا نے حسن کیا دے دیا ، اتراتی پھرتی ہے ، اور نخرے آسمانوں پہ ہیں ، اتنی ہے نہیں جتنا سمجھتی ہے خود کو ، میرا تو دل بھر گیا ہے دومہیہنوں میں ہی ۔ بدلا لو سارے اب اپنی گائیں بھینسیں ۔
حارث یار !
یار اپنی بھینس مجھےدے ، اس کی تو چال ہی بندے کو ہنسا دے ،
حسان اٹھ کر اس ’’بھینس ‘‘ کی چال کی ایکٹنگ کرنے لگا تھا ۔ وہ سب قہقہے مارتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ، ہاں ان کا رخ بدلا تھا ۔
ہاں انہوں نے مجھے دیکھ لیا تھا ، پھر ان کی ہونق سی شکل ان کی پتھرائی آنکھیں ان کی لرزتی آواز !
انہوں نے مجھ پر نگہ ڈالی اور ساکت ہوگئے ۔
لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی نگہ آخری نگہ تھیں جو کسی ’’گائے‘‘ پہ پڑی تھی ۔
میرا گروپ مجھے ڈھونڈتا آچکا تھا ، میں بھاگتی بھاگتی کلاس روم میں آگئی ، گروپ میرے پیچھے پیچھے تھا ۔ حسان کی کال آںے لگی تھی ، میں نے دروازہ بند کیا ، سم نکالی اور اپنے گروپ کی طرف دیکھ کے زور زور سے رونے لگی ۔
کچھ توقف کے بعد میں انہیں غصے سے کانپتے ہوئے ’’گائے بھینس‘‘ کی روداد سنا رہی تھی ۔
ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ اور مجھے یوں لگا جیسے ان سب کے منہ سے کسی نے زبان کھینچ نکالی ہو !!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے آج پہلی بار اپنے دوپٹے کو خود کے گرد لپیٹا ہوا تھا ۔
میں تیز ، بہت تیزتقریبا بھاگتی چلی جارہی تھی ۔ لمحہ لمحہ میرے وجود پہ بھاری گذرہا تھا ۔ اور میں گردوپیش سے بے نیاز، دکانوں سے گذرتی ، منہ کھولے بس آگے ہی آگے بڑھ رہی تھی ۔
کیونکہ مجھے سب مرد بہت بری طرح گھور رہے تھے اور کچھ لڑکے ۔۔۔ ہاں جن کو متاثر کرنے کے لیے میں رس گھولتی آواز بھی نکالتی تھی ، مٹکتی چال بھی چلتی تھی ، سلیولیس اور ٹائٹس بھی پہنتی تھی اور گلاب چہرے پہ میک اپ بھی کرتی تھی ، مگر اب ۔
بازاروں میں پھرتی تمام لڑکیاں مجھے مردوں کی نگاہوں میں ’’ گدھی بکری بھینس‘‘ سے زیادہ نہیں لگ رہی تھیں ۔ ہاں حجاب والی خواتین کا قد بلند تھا ، بہت بلند ، ہاں سب سے بلند !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک عبایا جو مجھے پورا آجائے ، پیک کردیجئے ۔
میرا سانس پھولا ہوا تھا ،لیکن میرا فیصلہ بروقت تھا اور لاجواب تھا ۔
میری آواز میں ایسا ٹھوس پن تھا جس کا حکم قرآن بہت پہلے دے چکا تھا ۔
دکان والے نے حیرت سے مری جانب دیکھا ، میرے سراپے کا جائزہ لیا اور جیسے سب سمجھ گیا ، اس کے بعد نہ اس نے مجھے دیکھا نہ میں نے اسے ۔ انتہائی شرافت سے عبایا میرے حوالے کردیا گیا تھا میں نے عبایا سینے سے لگایا اور دکان سے نکل گئی ۔ سامنے سے ایک رکشہ آتا دکھایا ، اس میں سوار ہوئی اور اپنا سانس بحال کرنے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج میں پھر آئینے کے سامنے کھڑی تھی ۔ میں سیاہ عبایا میں ملبوس ۔۔۔۔ کتنی پاکیزہ ۔۔۔۔۔ کتنی ڈیسنٹ ۔۔۔۔ کتنی شریف ۔۔۔ کتنی معصوم لگ رہی تھی ۔۔ اللہ کی قسم مجھے اپنا آپ ایسا اچھا کبھی نہیں لگاتھا ۔
’’ ملانی لگ رہی ہومائرہ ‘‘
میری بہن نے ہنستے ہوئے آواز کسی تھی ۔
گائے تو نہیں لگ رہی نا ؟
میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی تھیں ۔
وہ خاموش ہوگئی کہ وہ تمام روداد سن چکی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیپارٹمنٹ گیٹ ، میں نے انتہائی باوقار انداز میں عبور کیا تھا ۔
آج پیپر تھا ، دو گھنٹوں تک کوئی لڑکا مجھے نہ پہچان سکا ۔
حجاب پر طنز کرنے والی کبھی خود بھی حجاب کرسکتی ہے ، کسی کے تصور میں یہ کب تھا ۔
پیپر کے بعد جب میں ڈیپارٹمنٹ سے نکل رہی تھی تو حسان میرے پیچھے آیا ۔
مائرہ ، مائرہ !
میں نے یوں نظر انداز کیا جیسے میں نہ کچھ سنتی نہ دیکھتی ہوں نہ کسی کو جانتی ہوں ۔
میں چاھتی تو اسے وہ سناتی کہ نسلیں یاد رکھتیں ۔ مگر مجھے مریم نے کہا تھا کہ غیر مردوں کو اتنا بھی منہ نہیں لگاتے ،
’’خاموشی‘‘ مخاطب کے منہ پرزوردار تازیانے کی حثیت سے برستی ہے اور وہ اپنا سے منہ لے کر واپس ہوجاتا ہے ۔
یہاں بھی ایسا ہی ہوا تھا ، اور
اس کے بعد میرا راستہ چھوڑدیا گیا تھا ۔ ۔۔
میں عزت داروں کی فہرست میں آچکی تھی ۔ مجھے پہلی بار محسوس ہورہا تھا کہ حجاب والی لڑکی کے سامنے وقار کی ایسی دیوار کھڑی ہوجاتی ہے کہ کوئی غیر محرم قریب پھٹکنے کی جسارت نہیں کرسکتا ۔ کسی مرد کی ناپاک آنکھیں میرے وجود کا طواف نہیں کرسکتی تھیں ، میرے وجود پہ ڈھال تھی جو میرے رب نے مجھے عطا کی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اس عبایا کے ساتھ مجھے کئی سال گذر گئے ہیں ۔ ، جو بھی پوچھتا ہے میں اسے گدھی بکری کی روداد ضرور سناتی ہوں ۔ شائید کہ وہ بھی اپنی حثییت ان نا محرموں کے سامنے جان لیں ۔ کاش وہ جان لیں ۔۔ کاش وہ جان لیں ۔
اللہ کی قسم میں نے زندگی میں کسی عبایا والی شریف ذادی کے لیے ’’ گائے بکری‘‘ کے القاب نہیں سنے ۔
اگر سنے تو ان کے لیے جو ان مردوں کے لیے مر مٹتی ہیں جن کی نگاہوں میں ان کی حثیت گائے بکری گدھی سے زیادہ نہیں ہوتی ۔
میں نے لاتعداد کیسز سنے ، ایسا کیس مجھ پر ہی نہیں ، بے شمار لڑکیوں پر بیت چکا ۔
آپ کی حثیت’’ ایک انسان ‘‘ کی صرف آپکے محارم کے لیے ہوسکتی ہے ۔ اس شخص کے لیے ہوسکتی ہے جو اللہ کے نام پر آپ کو نیک نیتی کے ساتھ قبول کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔!!!
وگرنہ اپنے قلوب و اذھان میں بٹھا لیجے ، آپ کے سامنے بلکنے والامرد آپ کے پیچے قہقہے لگاتا ہے اور کسی گدھی بھینس ،گائے کی سرے عام تذلیل کرتا ہے ۔۔۔۔!

No comments