Header Ads

ایک رشتہ دار کے گهر جاتے ہوئے میری اہلیہ صاحبہ نے کہا:


ایک رشتہ دار کے گهر جاتے ہوئے میری اہلیہ صاحبہ نے کہا: مٹھائی لے لیں، کیا خالی ہاتھ جائیں گے؟ لوگ کیا کہیں گے؟ کیا رشتہ داروں کو ناراض کرنا ہے؟
اور میں نے خاموشی سے کار ایک مٹھائی کی دوکان کے سامنے روک دیا۔ اہلیہ صاحبہ میٹھائی لینے چلی گئیں۔ مٹھائی کی دوکان میں اتنا رش تھا جیسے میٹھائی مفت میں بٹ رہی ہو۔ لوگ اپنے پیاروں کو راضی کرنے کیلئے مٹھائیاں لے لے کر باہر آرہے تھے ۔ایسے میں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو ہر مٹھائی لے کر آنے والے کی طرف لپکتا تھا اور مسواک خریدنے کی درخواست کرتاتھا۔ لیکن لوگ اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے اور کنی کترا کر گزر جاتے تھے‘ مبادا یہ کہ کہیں مٹھائی لے جانے میں دیر نہ ہوجائے اور ان کے اپنے ان سے ناراض نہ ہوجائیں۔
اور میں سوچنے لگا۔ ۔۔۔
بندوں کو راضی کرنے کا ہمیں کتنا خیال ہے۔
بندوں کو راضی کرنے کیلئے ہم ہزار دو ہزارروپے کی مٹھائیاں خرید سکتے ہیں لیکن اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے دس روپے کی مسواک خریدنا گوارا نہیں کرتے۔
لیکن ساتھ ہی میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیا آج ہم مسلمانوں کو یہ معلوم بھی ہے کہ’’ مسواک رب کو راضی کرنے والی‘ رب کو زیادہ خوش کرنے والی چیز ہے‘‘
جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہﷺ کا یہ فرمان گرامی نقل کیا ہے :
«السِّوَاكُ مَطُهَرِةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ»
’’ مسواک منہ کے لیے صفائی کا موجب اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث ہے“۔ [سنن النسائي: 5، صحيح ابن خزيمة: 135، و سندهٔ صحيح]
ہم بندوں کو راضی کرنے کیلئے کثیر رقم خرچ کرکےقیمتی تحفے تحائف اور مٹھائیاں خریدتے ہیں پھر بھی اکثر ہم سےراضی نہیں ہوتے۔
جبکہ ہمارا رب کتنا ؑ ظیم ہے اور اس عظیم رب کو راضی کرنا کتنا آسان ہے‘بلکہ رب کو راضی کرنا تو دنیا کا آسان ترین کام ہے جس کیلئے کوئی کثیر سرمایہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
امیر‘ غریب‘ نادار و فقیر ہر کوئی رب کو راضی کر سکتا ہے۔
ایک مسواک کی قیمت ہی کیا ہے؟ ۔۔ دس روپے اور اگر یہ رقم بھی نہ ہو توکسی بھی پودے کی ریشہ دار پتلی سی ٹہنی توڑ کر مسواک کر لیں ۔۔ بس رب راضی اور منہ کی پاکی و صفائی بھی اور بے شمار بیماریوں سے نجات بھی۔
بس دل میں تڑپ ہو نا چاہئے ’’ اپنے رب کو راضی کرنے کی‘‘
لیکن آج ہم مسلمانوں کو نہ ہی اپنے رب کریم کو راضی کرنے کی فکر ہے اور نہ ہی صحت جیسی قیمتی نعمت کو برقرار رکھنے کیلئے منہ کی پاکی اور صفائی سے کوئی غر ض ہے‘ بلکہ آج ہم مسلمان ہزاروں روپے خرچ کرکے گٹکا‘ نسوار ‘پان‘ پان پراگ‘ سیگریٹ وغیرہ سے منہ کو گندا کرکے رب کو نارض کرنے اور اپنی صحت تباہ کرنے کے در پہ ہیں۔
گٹکا‘ نسوار ‘ پان پراگ‘ سیگریٹ وغیرہ سے منہ میں بدبو اور بے شمار بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جبکہ مسواک منہ سے بدبو دور کرتا ہے‘ صفائی کا موجب ہے ‘ صحت کا ضامن ہے اور ’’مسواک ہر بیماری کی شفا ہے سوائے سام کے، اور سام موت کو کہتے ہیں (کنز العمال ۲۶۱۵۰)‘‘۔
گٹکا‘ نسوار ‘ پان پراگ‘ سیگریٹ وغیرہ سے بندے کو ذکر اذکار کرنے سے روکتا ہے جبکہ مسواک کرنے سے ذکر اذکار میں دل لگتا ہے‘ فرشتوں کی قربت نصیب ہوتی ہے اور نیک اعمال کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جس نماز کے وضو میں مسواک کی گئی ہو اُس کی فضیلت اُس نماز پر ستر درجہ زیادہ ہے جس کے وضو میں مسواک نہیں کی گئی۔‘‘ ( بيهقی، السنن الکبری، 1 : 38، رقم : 158)
احادیث مبارکہ اور جدید تحقیق کی روشنی میں مسواک کے بے شمار روحانی و طبی فوائد لکھے جا سکتے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے کہ جنہیں عمل نہیں کرنا وہ سب کچھ جان کر بھی عمل نہیں کریں گے لیکن اللہ و رسول اللہ ﷺ کی محبت سے سرشار رب کو راضی کرنے کی تڑپ رکھنے والے صرف اتنا جان کر ہی کہ ’’ مسواک میں اللہ کی رضا و خوشنودی ہے اور یہ پیارے نبی ﷺ کی پیاری سنت ہے ‘‘۔۔۔ مسواک کرنے کو معمول بنا لیں گے اور اپنے رب کو راضی کرنے کی سعی کریں گے۔
آئیے اس پیاری سنت کو زندہ کریں۔۔۔ مسواک کی اس سنت کو اپنائیں اور اپنے رب کریم کو راضی کر کریں۔

No comments