Header Ads

چینی باشندے کے پاکستانی شناختی کارڈ کے معاملے کا ڈراپ سین

چینی باشندے کے پاکستانی کارڈ کے معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق دو روز قبل مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے اپنے پیغام میں چینی باشندے کے پاکستانی شناختی کارڈ کی تصویر اپ لوڈ کی تھی جس میں دیکھا گیا تھا کہ اس چینی باشندے کا پاکستانی شناختی کارڈ ہے۔
جس پر اس کا نام ، والد کا نام ، جنس اور شناختی کارڈ نمبر لکھا گیا ہے ۔ تاہم اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کئی سوالات اُٹھائے جانے کے بعد اب وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔ ایک ٹویٹر صارف نے لکھا کہ اگر یہ سچ ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سی پیک کے اثرات ہیں جس پر احسن اقبال نے بھی مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اس صارف کو جواب دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ چینی باشندے کے والدین کو 1989ء میں پاکستانی شہریت حاصل ہوئی تھی۔
اور یہ سب سی پیک کے جنم لینے سے کئی دہائیوں پہلے کی بات ہے۔



سوشل میڈیا صارفین نے اس پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چینی باشندے پاکستان کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں لیکن یہاں پیدا ہونے والے افغان شہری اور ان کے بچے پاکستانی شہریت حاصل نہیں کر سکتے۔ ہم سب کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خوش آمدید جو اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

No comments